جمعہ 27 فروری 2026 - 13:49
١٠ رمضان المبارک – وفاتِ ملیکۃُ العرب، اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد سلامُ اللہ علیہا

حوزہ/ دس رمضان المبارک، بعثتِ نبویؐ کے دسویں سال، اُس عظیم خاتون کی رحلت کا دن ہے جس نے نبوت کے ابتدائی اور سب سے کٹھن مرحلے میں نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے وجود، اپنے مال، اپنی سماجی حیثیت اور اپنے قلبی یقین کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

مرتبہ و نگارش: مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ: مدرسہ بنت الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ، الہند

حوزہ نیوز ایجنسی | اسلامی تاریخ کے اوراق میں بعض ہستیاں ایسی ہیں جن کے بغیر نہ دعوتِ محمدیؐ کی ابتدا کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس کے استقامت بھرے سفر کو۔ ان میں سب سے نمایاں، باوقار اور ہمہ جہت شخصیت اُمّ المؤمنین، ملیکۃُ العرب حضرت خدیجہ بنتِ خویلدؑ کی ہے۔

دس رمضان المبارک، بعثتِ نبویؐ کے دسویں سال، اُس عظیم خاتون کی رحلت کا دن ہے جس نے نبوت کے ابتدائی اور سب سے کٹھن مرحلے میں نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے وجود، اپنے مال، اپنی سماجی حیثیت اور اپنے قلبی یقین کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

یہ مقالہ فقہِ جعفری کی فکری روایت، معتبر تاریخی مصادر اور ادبی اسلوب کے امتزاج سے حضرت خدیجہؑ کے مقام، کردار اور اثرات کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ ہے۔

حضرت خدیجہؑ: نسب، مقام اور مکہ کی معاشرت میں حیثیت

حضرت خدیجہؑ قریش کے معزز اور صاحبِ ثروت گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ مکہ کے تجارتی معاشرے میں آپ کی حیثیت محض ایک کامیاب تاجرہ کی نہ تھی بلکہ ایک باوقار، صاحبِ رائے اور معتبر شخصیت کی تھی۔ اسی وجہ سے آپ کو “طاہرہ” اور “ملیکۃُ العرب” جیسے القابات سے یاد کیا جاتا تھا۔

اسلام سے پہلے کے مکہ میں، جہاں سرمایہ اور اقتدار مردوں کے ہاتھ میں مرتکز سمجھا جاتا تھا، وہاں ایک خاتون کا اس سطح پر کامیاب، بااثر اور فیصلہ ساز ہونا، خود ایک اہم تاریخی حقیقت ہے۔ یہی پہلو ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ حضرت خدیجہؑ کا اسلام قبول کرنا محض ایک خانگی فیصلہ نہ تھا بلکہ ایک خاموش مگر گہرے سماجی و فکری انقلاب کا اعلان تھا۔حوالہ: سیرت ابنِ ہشام

بعثت کے لمحے اور سب سے پہلی تصدیقِ نبوت

جب غارِ حرا سے لوٹ کر رسولِ خدا ﷺ پر پہلی وحی کی ہیبت و عظمت طاری ہوئی اور آپ اضطراب کے عالم میں اپنے گھر تشریف لائے تو جس ہستی نے سب سے پہلے نبوت کی سچائی کو پہچانا، وہ حضرت خدیجہؑ تھیں۔

یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ حضرت خدیجہؑ کا ایمان محض جذباتی وابستگی پر قائم نہ تھا بلکہ اخلاقِ نبویؐ، صداقت، امانت، صلۂ رحمی اور انسانی خدمت پر مبنی ایک عقلی اور باطنی یقین کا ثمر تھا۔

آپ نے نہایت وقار اور اطمینان کے ساتھ عرض کیا: “ہرگز نہیں، خدا آپ کو رسوا نہیں کرے گا؛ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا سہارا بنتے ہیں اور حق کا ساتھ دیتے ہیں۔”

یہی وہ لمحہ تھا جس نے نبوت کے سفر کو پہلا مضبوط انسانی سہارا عطا کیا اور تاریخِ اسلام کو پہلی صاحبِ ایمان خاتون نصیب ہوئی حوالہ: سیرت ابنِ ہشام، بابُ بدء الوحی،

مالی قربانی: دعوتِ اسلام کی خاموش مگر مضبوط بنیاد

حضرت خدیجہؑ کا سب سے نمایاں اور تاریخ ساز کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے تمام تجارتی وسائل، ذاتی دولت اور معاشی حیثیت کو بے دریغ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

بعثت کے ابتدائی سالوں میں، جب قریش کی معاشرتی اور معاشی مزاحمت انتہائی شدت اختیار کر چکی تھی اور مسلمانوں کے لیے روزگار، تحفظ اور بقا ایک بڑا مسئلہ بن چکا تھا، اس وقت حضرت خدیجہؑ کا سرمایہ درحقیقت دعوتِ اسلام کا خاموش پشت پناہ تھا۔

خصوصاً شِعبِ ابی طالب کے محاصرے کے دوران یہی مال، بھوکے بچوں، کمزور مسلمانوں اور محصور خاندان کے لیے زندگی کی علامت بن گیا۔

یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں کہ اگر حضرت خدیجہؑ کی مالی قربانی نہ ہوتی تو مکہ کے ابتدائی دور میں اسلام کو جس سطح کا عملی سہارا ملا، وہ ممکن نہ تھا۔حوالہ: تاریخ الطبری، واقعاتِ محاصرۂ شعبِ ابی طالب،

ازدواجی رفاقت نہیں، نبوت کی رفاقت

حضرت خدیجہؑ اور رسولِ خدا ﷺ کا تعلق محض میاں بیوی کا رشتہ نہ تھا بلکہ یہ نبوت اور ایمان کی ہم سفر رفاقت تھی۔

رسولِ خدا ﷺ نے اپنی پوری ازدواجی زندگی میں، حضرت خدیجہؑ کی حیات میں، کسی اور سے نکاح نہیں فرمایا۔ یہ حقیقت بذاتِ خود اس امر کی دلیل ہے کہ آپؐ کے نزدیک حضرت خدیجہؑ کا مقام صرف گھریلو نہ تھا بلکہ رسالتی زندگی کا بنیادی سہارا تھا۔

بعد کے برسوں میں بھی رسولِ خدا ﷺ حضرت خدیجہؑ کا تذکرہ نہایت محبت، شکرگزاری اور وفا کے ساتھ فرمایا کرتے تھے، حتیٰ کہ بعض ازواجِ مطہرات کو آپؐ کی اس مستقل یاد سے رشک محسوس ہوتا تھا۔حوالہ: سیرت ابنِ ہشام،

رسولِ خدا ﷺ کی زبانِ وفا

رسولِ خدا ﷺ نے حضرت خدیجہؑ کی عظمت اور قربانی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

“انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا، اور اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب سب نے مجھے محروم کر دیا۔”

یہ جملہ درحقیقت حضرت خدیجہؑ کی پوری حیاتِ مبارکہ کا جامع خلاصہ ہے۔حوالہ: صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب فضل خدیجہ،

عامُ الحُزن: تاریخِ اسلام کا سب سے دردناک موڑ

بعثت کے دسویں سال حضرت خدیجہؑ کی رحلت نے رسولِ خدا ﷺ کے قلبِ مبارک پر نہایت گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ اسی سال حضرت ابو طالبؑ کی وفات بھی واقع ہوئی۔

اسی بنا پر اسلامی تاریخ میں اس سال کو عامُ الحُزن کہا جاتا ہے۔

یہ صرف دو عظیم شخصیات کا دنیا سے رخصت ہو جانا نہ تھا بلکہ نبوت کے سب سے بڑے اخلاقی، سماجی اور حفاظتی حصار کا ٹوٹ جانا تھا۔

حضرت خدیجہؑ کی وفات کے بعد دعوتِ اسلام ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں رسولِ خدا ﷺ کو معاشرتی دباؤ، سیاسی مخالفت اور جسمانی اذیتوں کا سامنا پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کرنا پڑا۔حوالہ: تاریخ الطبری، واقعاتِ عامُ الحُزن،

فقہِ جعفری کی روشنی میں حضرت خدیجہؑ کا امتیازی مقام

مکتبِ اہلِ بیتؑ کے معتبر مصادر میں حضرت خدیجہؑ کو نہایت بلند اور منفرد مقام عطا کیا گیا ہے۔

ائمۂ اہلِ بیتؑ سے منقول روایات میں حضرت خدیجہؑ کو اُن برگزیدہ خواتین میں شمار کیا گیا ہے جنہوں نے ایمان کو محض زبانی اقرار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قربانی، وفا، نصرت اور عملی استقامت کی صورت میں پیش کیا۔

فقہِ جعفری کے فکری تناظر میں حضرت خدیجہؑ:

اسلام کی پہلی مؤمنہ،

نبوت کی پہلی مددگار،

اور خانوادۂ اہلِ بیتؑ کی اساس

قرار پاتی ہیں، کیونکہ حضرت فاطمہ زہرا سلامُ اللہ علیہا جیسی ہستی اسی پاکیزہ اور طاہر دامن کی آغوش سے دنیا میں تشریف لائیں۔حوالہ: الکافی، کتاب الایمان و الکفر

عورت، معیشت اور قیادت: حضرت خدیجہؑ ایک ہمہ جہت نمونہ

حضرت خدیجہؑ کی زندگی عصرِ حاضر کی مسلمان عورت کے لیے محض ایک روحانی اسوہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور معاشی رہنما نمونہ بھی ہے۔

آپ ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ:

عورت تجارت بھی کر سکتی ہے،

سماجی قیادت بھی سنبھال سکتی ہے،

اور دینی تحریک کی پشت پناہی بھی کر سکتی ہے،

بشرطیکہ اس کی بنیاد ایمان، حیا، وقار اور شعوری ذمہ داری پر ہو۔

یہی وہ جامع تصور ہے جو فقہِ اہلِ بیتؑ کے فکری سانچے میں عورت کے حقیقی مقام کو متوازن اور باوقار انداز میں واضح کرتا ہے۔

دس رمضان المبارک ہمیں صرف ایک عظیم خاتون کی وفات یاد دلانے کے لیے نہیں آتا، بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ایمان کے معیار پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے:

کیا ہم نے اپنے ایمان کو حضرت خدیجہؑ کے ایمان کی طرح عملی بنایا؟

کیا ہم نے حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کی یا صرف اس کے نعروں پر اکتفا کیا؟

حضرت خدیجہؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ

ایمان کا اصل امتحان قربانی کے لمحے میں ہوتا ہے، نہ کہ سہولت کے زمانے میں۔

سلام ہو اُس خاتون پر

جس نے نبوت کو گھر دیا،

دعوت کو سرمایہ دیا،

اور اسلام کو اپنی خاموش مگر لازوال طاقت عطا کی۔

وما توفیقُنا إلا باللہ العلی العظیم

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha